بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف اور پاکستانی فوج کے سربراہ عاصم منیر کے دورہ ایران کے ساتھ ہی، افزودہ یورینیم کے ذخائر کے تحفظ اور اس مواد کو ملک سے باہر لے جانے کی بیرونی تجویز کے تئیں تہران کی مخالفت ایک بار پھر مذاکرات کے مستقبل اور ایران کی قومی سلامتی پر بحث کا ایک اہم اور مرکزی نقطہ مرکز بن گئی ہے۔
اعلیٰ قومی سلامتی کونسل کے سیکرٹری، میجر جنرل ڈاکٹر محسن رضائی نے پاکستانی فوج کے سربراہ سے ملاقات میں زور دیا کہ افزودہ جوہری مواد کا ایک ذرہ بھی ایران سے باہر نہیں جائے گا؛ یہ وہ موقف ہے جس نے سوشل میڈیا پر اس فیصلے کی وجوہات، تسدید (بازداری) میں یورینیم کے ذخائر کے کردار، اور اس پر اصرار کی ممکنہ لاگت کے بارے میں سوالات اٹھائے ہیں۔
کیا ان ذخائر کا تحفظ فوجی خطرات کو روک سکتا ہے یا اس کے برعکس، دوبارہ تصادم کے امکان کو بڑھا دیتا ہے؟ بین الاقوامی اور امریکی امور کے ماہرین نے ان سوالات کے جواب میں ایران اور امریکہ کے سکیورٹی حسابات میں جوہری صلاحیت کے کردار کا جائزہ لیا ہے۔
یورینیم کے ذخائر اور تسدید کا تصور
بین الاقوامی امور کے ماہر ڈاکٹر مہدی خانعلی زادہ نے فارس نیوز ایجنسی کو انٹرویو دیتے ہوئے ایران کی موجودہ افزودگی کی صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے کہا: اب ہمارے پاس تقریباً 400 سے 450 کلوگرام اعلیٰ افزودہ مواد ہے جو تقریباً ایٹمی ہتھیار بنانے اور تیار کرنے کے برابر ہے۔
خانعلی زادہ نے زور دیا: اب تک ایران کے خلاف ایٹمی ہتھیار استعمال نہ ہونے اور حتیٰ کہ ایٹمی دھمکی بھی نہ دیئے جانے کی وجہ یہ ہے کہ ایران کو دو معیاروں کی بنیاد پر ایک غیر رسمی جوہری طاقت سمجھا جاتا ہے۔

بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کے ڈائریکٹر جنرل نے بھی اعلان کیا ہے کہ ایران دنیا کی واحد سیاسی اکائی ہے جس کے پاس ایٹمی ہتھیار نہیں مگر اعلیٰ شرح کی افزودگی ہے۔ نیز
فارن پالیسی میگزین نے بائیڈن انتظامیہ کے حوالے سے لکھا کہ امریکہ ایران کو ایک de facto جوہری ریاست سمجھتا ہے۔

ایران کے خلاف امریکہ کے ٹیکٹیکل ایٹمی ہتھیار کے استعمال کا امکان
امریکی امور کے ماہر ڈاکٹر فؤاد ایزدی نے بھی فارس کے سیاسی نامہ نگار سے گفتگو میں ایران کے خلاف ٹیکٹیکل ایٹمی ہتھیاروں کے ممکنہ استعمال کا حوالہ دیتے ہوئے کہا: ڈونلڈ ٹرمپ نے گذشتہ ادوار میں ایران کو "پتھر کے دور میں واپس دھکیلنے" اور "ایرانی تہذیب کو تباہ کرنے" جیسے الفاظ سے دھمکی دی ہے۔ اگرچہ اس نے واضح طور پر ایٹم بم کی اصطلاح استعمال نہیں کی، مگر بہت سے امریکی مبصرین کا تاثر یہ رہا ہے کہ مراد ایٹمی ہتھیار کا استعمال تھا۔
انھوں نے مزید کہا: امریکہ میں ایران کے خلاف ٹیکٹیکل ایٹمی ہتھیاروں کے استعمال کی بحث چل رہی ہے، کیونکہ وہ کہتے ہیں کہ روایتی ہتھیاروں سے ان میزائل سائٹس اور بعض زیرِ زمین تنصیبات کو نشانہ نہیں بنایا جا سکتا۔ اگر امریکہ کا ہدف ایران کی میزائل اور جوہری تنصیبات کو مکمل تباہ کرنا ہو تو ممکن ہے وہ ٹیکٹیکل ایٹم بموں کے استعمال کو اپنے ایجنڈے میں شامل کرے۔ بعض امریکی حکام کے اشاروں سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ آپشن محض زبانی کلامی دھمکی نہیں بلکہ ان کے آپریشنل منصوبوں میں بھی موجود ہو سکتا ہے۔
ایزدی نے مزید کہا: ایٹمی ہتھیار کی تباہ کن طاقت بھی زیادہ ہوتی ہے اور یہ ماحول کو بھی تابکاری سے آلودہ کرتا ہے؛ اس طرح کہ کم از کم ایک دو سال تک اس علاقے میں آمد و رفت ممکن نہ ہو گی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تحریر: علی شفیعی اقدم
ترجمہ: ابو فروہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ